تازہ ترین اضافہ
گناہِ عشق کی پر بے گناہیاں نہ گئیں
اپنے مقدّروں کا لکھا سوچتے رہے
شاید کسی کی یاد نے چھیڑا ابھی مجھے
یہ میری آنکھوں میں، کس رُت میں کیسے خواب لگے
سارے منظر آئنوں سے خود مٹا کر آئے ہیں
سسکتی پیاس لبوں پر فرات آنکھوں میں
حاصل زیست ہو تم زیست کی دولت تم ہو
پھر اسکے بعد فقط خاک کربلا چوموں
اور ہم شہروں میں بھی سہمے ہوئے رہتے ہیں
لوگ محفوظ نہیں اپنے ہی شر سے یارو
اب ایسا گلشن ہستی میں سانحہ ہو گا
ہر حق شناس کا میں تجھے پیشوا لکھوں
شعور و فہم سے ہے ماورا مقام حسین
